ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پرچارکوں کے بڑھتے سیاسی عزائم آر ایس ایس کے لیے درد سر

پرچارکوں کے بڑھتے سیاسی عزائم آر ایس ایس کے لیے درد سر

Sat, 03 Sep 2016 13:02:17    S.O. News Service

نئی دہلی، 2؍ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)گوا میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)کے اندر جو بحران آیا، وہ ایک بڑا بحران ہے۔سنگھ کی 90سالہ تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ ریاستی سنگھ سربراہ کو عہدے سے ہٹانے کے بعد پوری اکائی نے استعفی دینے کا اعلان کر دیا ہو اور ایک دوسری متعلق تنظیم (بی جے پی)کے خلاف کام کر کے اسے الیکشن میں شکست دینے کا عوامی چیلنج دے ڈالا ہو،لیکن گوا میں ایسا ہی ہوا ہے۔گواکے ریاستی سنگھ سربراہ سبھاش ویلنگکر کو منگل کو ہٹادیا گیا اور اس کے اگلے ہی دن سنگھ کے سینکڑوں کارکنوں اور عہدیداروں نے خود کوتنظیم سے الگ کر لیا۔حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ آر ایس ایس کے لیے 24 گھنٹے کے اندر اندر دوسری بار گوا کے حالات پر بیان جاری کرنا پڑا۔ذرائع کے مطابق ،ویلنگکر ریاست کی بی جے پی حکومت کے خلاف کام کر رہے تھے۔وہ ’بھارتیہ بھاشا سرکشا منچ ‘بنا کر الگ سے الیکشن لڑنے کی تیاری میں ہیں۔ان کے بھارتیہ بھاشا سرکشا منچ نے اکتوبر میں الگ سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ویلنگکر نے اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کی پیشین گوئی بھی کی تھی۔ان کا مطالبہ ہے کہ بنیادی تعلیم میں مراٹھی اور کونکنی زبانوں کو لازمی قراردیا جائے اور انگریزی میڈیم کے اسکولوں کو سرکاری امداد روکی جائے۔ان کے منچ کے کارکنوں نے اگست کے تیسرے ہفتے میں ترنگا یاترا کے سلسلے میں ریاست میں پہنچے بی جے پی صدر امت شاہ کے قافلہ کو سیاہ پرچم بھی دکھایا تھا ۔میڈیا سے بات چیت میں ویلنگکر کے سخت تیور برقرار ہیں۔انہوں نے موجودہ بحران کے لیے ریاست کے سابق وزیر اعلی اور موجودہ مرکزی وزیر دفاع منوہر پاریکر کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اب ان کا واحد مقصد ریاست کی بی جے پی حکومت کو شکست دینا ہے۔ویلنگکر کی کوشش ریاستی حکومت میں بی جے پی کی اتحادی مہاراشٹروادی گومانتک پارٹی (ایم جی پی) سے تال میل کی ہے۔اس بغاوت کو روکنے کا فی الحال آر ایس ایس کوکوئی راستہ نہیں نظرآ رہا ہے۔سنگھ نے یہ ضرور کہا ہے کہ گوا ریاستی اکائی کے عہدیداروں کے ناموں کا اعلان جلد ہی کر دیا جائے گا، لیکن ویلنگکر کے ساتھ گئے سینکڑوں سنگھ کارکنوں کو واپس لانے کے لیے کیا قدم اٹھائے جا رہے ہیں، اس کے بارے میں سنگھ فی الحال کچھ بولنے کو تیار نہیں۔حالانکہ اپوزیشن پارٹیاں اس کو آر ایس ایس اور بی جے پی کے درمیان نوراکشتی بتا رہی ہیں۔
کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ بغاوت آپسی سمجھ کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے، تاکہ بی جے پی مخالف ووٹوں کو کانگریس اور تیزی سے پاؤں پسار رہی عام آدمی پارٹی میں جانے سے روکا جا سکے۔سنگھ میں ایسے حالات پہلے بھی بنے ہیں، مگر بات پھوٹ تک نہیں پہنچی تھی ۔جموں و کشمیر میں 2002کے اسمبلی انتخابات میں سنگھ کے سینئر عہدیداروں نے ایک الگ سیاسی پلیٹ فارم کو حمایت دی تھی۔بی جے پی کو ہندو اکثریتی جموں میں اس کی وجہ سے نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا۔اسی طرح گجرات میں کیشو بھائی پٹیل کی بغاوت کو سنگھ کے ایک سینئر عہدیدار کی حمایت حاصل تھی ، لیکن وہ بغاوت ناکام ہو گئی تھی۔سنگھ کے سامنے دوسرا مسئلہ بی جے پی میں بھیجے گئے پرچارکوں کے بڑھتے سیاسی عزائم کا بھی ہے۔ان لیڈروں کو بی جے پی میں تنظیمی وزیر اور تنظیمی معاون وزیر کی ذمہ داری دی جاتی ہے۔ریاستی اکائیوں سے ان کی بڑھتی ہوئی مداخلت کی شکایتیں مسلسل مل رہی ہیں۔حال ہی میں کچھ ریاستوں سے تنظیمی وزراء کو مرکز میں بلایا گیا۔اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور کرناٹک کی ریاستی تنظیم کے وزراء کو مرکزی کی بی جے پی حکومت میں جگہ دی گئی، حالانکہ کرناٹک سے دہلی بلائے گئے سنتوش کے بارے میں ریاستی بی جے پی کے کچھ لیڈران کہتے ہیں کہ وہاں کے معاملات میں ان کی دخل اندازی برقرار ہے، کیونکہ وہ ایسے لیڈروں کی حمایت کر رہے ہیں جو نہیں چاہتے کہ پارٹی بی ایس یدی یورپا کو وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار اعلان کرے۔سنگھ نے ایسی شکایتوں کے بیچ ریاستی تنظیم کے وزراء اورمعاون وزراء کا اسی مہینے اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔دہلی سے متصل سورج کنڈ میں تین دن کا یہ اجلاس 10ستمبر سے شروع ہوگا ،حالانکہ سنگھ لیڈروں کا کہنا ہے کہ اگست-ستمبر میں ایسے اجلاس ہر سال ہوتے ہیں۔مگر گوا کے معاملے کو دیکھتے ہوئے اس بار اس اجلاس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔اجلاس میں آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری بھیاجی جوشی بھی موجود رہیں گے۔مانا جا رہا ہے کہ سنگھ کے رضاکاروں کو سیاست کی مشکل راہ پر سنبھل کر چلنے کی نصیحت دی جا سکتی ہے، تاکہ سنگھ لیڈروں کے بڑھتے سیاسی عزائم پر لگام لگایا جا سکے۔


Share: